الباقر مركز تحقيقات ومطالعات
الباقر مركز تحقيقات ومطالعات
  • صفحہ اول
  • علمی مقالات
  • مضامین
  • مختصر تبصرے
  • رپورٹس
  • مطبوعات
  • دیگر سرگرمیاں
  • مجلہ الباقر
  • تعارف
  1. Home
  2. رپورٹس
  3. یکساں قومی نصاب؛ خوبیاں و خامیاں/ وبینار رپورٹ
رپورٹس

یکساں قومی نصاب؛ خوبیاں و خامیاں/ وبینار رپورٹ

by admin مئی 12, 2022 689 0 Comment 1 min read

AA

 یکساں قومی نصاب؛ خوبیاں و خامیاں/ وبینار رپورٹ

نئے یکساں نصاب تعلیم پر معاشرے کے کئی ایک طبقات کی طرف سے تحفظات سامنے آرہے ہیں جن میں تعلیمی، مذہبی اور نظریاتی طبقات سرفہرست ہیں۔ ان تحفظات کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض طبقات ذرائع ابلاغ کے ذریعے نئے نصاب کو  اپنے آئینی حقوق کے منافی قرار دے کر اسے مسترد کر چکےہیں۔ بعض طبقات اس مسئلے کو سپریم کورٹ تک لے گئے ہیں۔ نظام تعلیم کا اہم ستون ہونے کے ناطے نصاب کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نصاب وہ نقشہ راہ ہے جس پر چل کر تعلیم کے مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔ نئے نصاب میں کیا اصلاحات کی جارہی ہیں؟۔ مختلف طبقات کو اس پر کیا تحفظات ہیں اور ان کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے؟۔ ان سوالا ت کے جواب کی تلاش کے لیے 26 فروری2022 بروز ہفتہ الباقر مرکز مطالعات و تحقیقات (رجسٹرڈ) اسلام آباد کے زیر اہتمام یکساں نصاب تعلیم؛ فائدے اور نقصانات کے عنوان کے تحت ایک وبینار منعقد کیا گیا جس میں مذہبی اسکالرز اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ وبینار  پینل میں حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی، حجۃ الاسلام والمسلمین مقصود علی ڈومکی،  پروفیسر ڈاکٹر سید نثار حسین ہمدانی، پی ایچ ڈی اسکالر سید ہاشم رضا عابدی اور محمد ثقلین  شامل تھے۔ پینل میں شامل ماہرین کی آراء کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

 

وبینار کے پہلے مقرر مذہبی اسکالر حجۃ الاسلام ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے کہا رواداری، اخوت، اتحاداور یکجہتی  کسی بھی معاشرے کے لیے بنیادی نوعیت کی اقدار ہیں اور  ان سمیت تمام معاشرتی اقدار کے احیا و بقا میں ایک نصاب تعلیم کا بہت بنیادی کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا بانیان پاکستان حضرات قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ ریاست کے بنیادی اصول وضع کر دئیے تھے اور یہ پاکستان کے قیام کے وقت ہی یہ طے ہوگیا تھا کہ یہ ملک اور معاشرہ قرآن وسنت کی حقیقی تعبیر و تشریح کے مطابق چلایا جائے گا جہاں تمام لسانی، علاقائی یا مذہبی و دیگر طبقات بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں گے۔ اس ملک کے تمام شہری مساوی تکریم کے حامل ہوں گے لیکن افسوس بانیان پاکستان کی وفات کے بعد یہ ملک مخصوص سوچ اور فکر کے تسلط میں چلا جاتا گیا یہاں تک کہ مخصوصی مذہبی غلبے کی ایک جنگ کا آغاز کر دیا گیا جس کیوجہ سے معاشرے کے بعض طبقات میں محرومیوں کا احساس پیدا ہوا اور یہ خلیج آہستہ آہستہ بڑھتی گئی۔

انہوں نے کہا نیا نصاب اسی سوچ اور فکر کا شاخصانہ ہے کہ دین و مذہب کی ایک مخصوص تشریح کو دیگر تمام پر مسلط کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا یہ تقریبا ویسا ہی ہے جیسا اکبر بادشاہ نے دین اکبری نافذ کرکے کیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ اس کے نتیجے میں معاشرے کے مختلف طبقات میں بے چینی پیدا ہوگی اور مزاحمت جنم لے گی جس سے اتحاد و وحدت اور یگانگت کی فضا خراب ہوگی۔ انہوں نے تجویز دی کہ نئے نصاب کو ملک کے تمام طبقات کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے اس پر نظر ثانی کی جائے۔ [shafqatshirazi5@yahoo.com]

 

وبینار کے دوسرے مقرر مذہبی اسکالر حجۃ الاسلام علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا نیا یکساں نصاب بناتے ہوئے خصوصا دینیات کا نصاب بناتے ہوئے شیعہ مکتب فکر کو بطور ایک اسٹیک ہولڈر تسلیم تو کیا گیا لیکن ان کی آرا اور حساسیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا اگر متعلقہ اتھارٹیز نصاب سازی کے عمل کے تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتیں تو شاید ایسی صورتحال سامنے نہ آتی۔ انہوں نے سنہ ۱۹۷۵ کے نصاب دینیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  اس نصاب دینیات کی دو عمدہ خصوصیات تھیں جنہیں نئے یکساں نصاب میں نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس نصاب کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس کی تدوین کے عمل میں ۱۱ میں سے ۵ اراکین کمیٹی شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے جو ایک متوازن نمائندگی تھی۔ نئے یکساں نصاب دینیات میں شیعہ مکتب فکر کو تدوین کے عمل میں شریک ہی نہیں کیا گیا اور مشاورتی عمل میں بھی صرف ایک نمائندہ شیعہ مکتب فکر سے لیا گیا جس کی آرا کو نظر انداز کردیا جاتا تھا اس کے باوجود کہ شیعہ مکتب فکر کے نمائندے نے نصاب سازی کے متعلقہ ادارے کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ ان کے نزدیک سنہ ۱۹۷۵ کے نصاب دینیات کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ اس میں پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک صرف چار مشترک ابواب تھے جن پر شیعہ سنی مکاتب فکر کا اتفاق ہے۔ اختلافی تمام ابواب نویں سے دسویں جماعت میں شیعہ بچوں کے لیے علیحدہ سیکشن ان کی اپنی تعلیمات کے مطابق اور سنی بچوں کے لیے علیحدہ سیکشن ان کی اپنی تعلیمات کے مطابق شامل کیے گئے تھے۔ یہ تمام ایک ہی کتاب میں ہوتے تھے شیعہ بچے اپنے مخصوص ابواب پڑھتے اور سنی بچے اپنے مخصوص ابواب پڑھتے تھے۔

ان کا خیال تھا کہ اگر نیا یکساں نصابِ دینیات ایک مشترکہ نصاب ہے تو اسے تمام معنوں میں مشترکہ ہونا چاہئے اور اختلافی ابواب دینیات سمیت کسی بھی مضمون میں شامل نہیں ہونے چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ  شیعہ مکتب فکر اہل بیت اطہار ؑ کی تعلیمات کو اسلام کی حقیقی تعلیمات تصور کرتا ہے اور یہ اس مکتب فکر کے ماننے والوں کا ایمان ہے جبکہ نئے نصاب میں نہ صرف یہ کہ اہل بیت اطہارؑ کی ذوات مقدسہ کی شخصیات اور تعلیمات بیان کرنے کے لیے کوئی علیحدہ باب قائم نہیں کیا گیا جبکہ دیگر کئی ایک شخصیات کے لیے باقاعدہ باب قائم کئے گئے ہیں بلکہ مختلف ابواب میں جب دینی تعلیمات اور ہدایات بیان کی گئی ہیں تو اہل بیت اطہارؑ سے صادر تعلیمات اور ہدایا ت تک کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

انہوں نے نئے یکساں نصاب دینیات کو ایک مسلکی نصاب قرار دیا اور ان کی تجویز تھی کہ اس نصاب پر نظر ثانی کی جائے اور اس دوران تحریک آزادی، قیام پاکستان اور نصاب سازی کی تاریخ کو مدنظر رکھا اور حقیقی معنوں میں ایک یکساں نصاب  تشکیل دیا جائے اور اختلافی ابواب کو سرکاری نصاب میں شامل نہ کیا جائے۔ ان کی کہنا تھا کہ کئی ایک جگہ پر دینی ہدایات میں تصرف کیا گیا ہے جیسے درود شریف کی عبارت و غیرہ جو کہ درست نہیں اور اس طرح کی چیزوں کی وجہ سے نیا نصاب دینیات ایک مسلکی نصاب ہے جسے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ قبول نہیں کرتا۔ علامہ مقصود علی ڈومکی کا کہنا تھا کہ نئے نصاب کے ذریعے اگر مشترکہ دینیات نافذ کرنی ناگزیر ہے تو پھر اسے حقیقی معنوں میں پہلے باب سے آخری باب تک  یکساں ہونا چاہئے اور اس میں کوئی اختلافی نظریہ یا ہدایات شامل نہیں ہونی چاہئے۔ اگر اسے مشترکہ نہیں بنایا جاسکتا تو آٹھویں جماعت تک صرف مشترکہ ابواب شامل ہوں اور نویں دسویں میں دیگر ابواب کے سیکشن علیحدہ علیحدہ کر دئیے جائیں۔ [maqsoodalidoomki@gmail.com]

 

وبینار کے تیسرے مقرر سید ہاشم رضا عابدی کا کہنا تھا کہ نیا یکساں نصاب  مغرب  کی سیکولر و لبرل بنیادوں پر استوار ایک عالمی تہذیب کی تشکیل کے عمل کا حصہ ہے ۔ جس کی واضح دلیل  اس نصاب کے مقاصد، فلسفی  بنیادیں ، اسٹرانڈ ،اور  2030 کے مقاصد  و پالیسیوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ اس لیے بہت   سے مضامین  خصوصا  جنرل سائنس  اور سوشل سائنس  کے اسباق اسلام کے تصورحیات ، سماجی اور اخلاقی   اقداروں کے ساتھ تضاد رکھتے ہیں۔ کیونکہ  نصاب کی بنیادیں اسلامی فلسفے کی بجائے مغربی  فلسفے ماڈرنزم  اور پوسٹ ماڈرنزم  جو کہ  تنوع ، غیبی  حقائق ، ثابت اعتقادات اور مسلم اخلاقی اقداروں  کی نفی  اور  اقلیتوں کی محوریت  پر تاکید  کرتا ہے، پر رکھی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا اسلامی فلسفے کی بنیادی خصوصیات میں سے  توحید، رسالت اور آحرت پر ایمان اور ایک امت  ہیں ، جن  کا اس نصاب میں سوائے اسلامیات کہیں بھی ذکر  نہیں جبکہ خود اسلامیات کے نصاب پر بھی  بہت سے مسلکی  تحفظات ہیں ۔اس کے برعکس پورے نصاب  پر مغربی تہذیب  اور اس کے بنیادی تصورات و اصول جن کا اوپر ذکر ہوا ہے وہ زیادہ  نمایاں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مغربی لبرل ڈیموکریسی میں اقلیتوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے جبکہ اسلامی فلسفے میں اقلیتوں کے احترام  اور حقوق اپنی جگہ محفوظ لیکن مرکزی حیثیت  اسلام  کی  آفاقی تعلیمات ، سماجی  و اخلاقی اقداروں کو ملنی چاہیے۔

انھوں نے نصاب سے خصوصا تاریخ  کی کتاب سے مثالیں دیتے ہوئے  بیان کیا کہ  اس نصاب میں پاکستان کو ایک سیکولر معاشرہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ پاکستان  ایک اسلامی مملکت اور معاشرہ  ہے۔ تاریخ کے مضمون میں تمام ان تہذیبیوں  کا ذکر ہے جو مغربی لبرل ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں ۔اسلامی تہذیب اور اس کی شاندار تاریخ  کا  کما حقہ علیحدہ سے ذکر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہیومن رائٹس الحادی  بنیادوں پر لکھے گئے ہیں جن میں اللہ تعالی کی ذات ، انسانی روح ، عبادت ، قیامت  کا تصور نہیں ہے۔ ان کی تجویز تھی کہ اس نصاب پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور پاکستان کےنصاب کی بنیاد اسلامی فلسفے پر استوار ہونی چاہئے جس کے لیے پاکستان کی نطریاتی اساس اور اسلامی فلسفہ سے واقفیت رکھنے والے ماہرین تعلیم کو نصاب کی اصلاح کے عمل میں شریک کیا جانا چاہئے۔ [shraza2001@gmail.com]

 

وبینار کے چوتھے مقرر پروفیسر ڈاکٹر سید نثار حسین ہمدانی نے کہا سب سے پہلے تو نصاب میں اصلاحات کے عمل  کو شروع کرنے پر حکومت لائق تحسین ہے۔ ان  کے بقول یہ تجویز سابقہ ادوار میں بھی زیر غور رہی کہ نصاب میں اصلاحات کی جائیں لیکن اکثر اوقات ردعمل کے خوف یا دیگر وجوہات کی بنا پر کسی حکومت نے اصلاحات کے عمل میں ہاتھ نہیں ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے یکساں نصاب کے سامنے آنے کے بعد جو ردعمل دیکھا جا رہا ہے یہ ذمہ دارانہ رسپانس ہے اور اگر کوئی دانشور، والدین یا کوئی بھی اسٹیک ہولڈر جس انداز میں بھی اظہار خیال کرتا ہے حکومت کو اس کے ردعمل کو ذمہ دارانہ رسپانس کے طور پر لینا اور ان کی تجاویز کو نصاب کی اصلاح کے عمل میں زیر غور لانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے یکساں نصاب کی تدوین کے مقاصد بہت اچھے تھےجیسے یکسانیت بذات خود ایک اچھا مقصد ہے۔

ان کے بقول نصاب میں holistic approach اپنانے کی سعی کی گئی جو خود میں ایک اچھا مقصد تھا لیکن جو پروڈکٹ سامنے آئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ بعض جگہوں پر ہمارے معاشرے کی جو بنیادی فالٹ لائنز تھیں ان کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ ان کے بقول بعض جگہوں پر حسن نیت کے فقدن کا بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول ممکن ہے حسن نیت کا فقدان بڑی سطح پر نہ ہو لیکن بعض جگہوں پر ممکن ہے نفوذی عناصر یا ذمہ داران  کی غفلت کیوجہ سے ان فالٹ لائنز کا خیال نہ رکھا جا سکا ہو۔ ان کا خیال ہے تھا کہ نصاب کی جو پروڈکٹ سامنے آئی ہے وہ بیان شدہ مقاصد کی بجائے نصاب کو کسی دوسری طرف لے گئی ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان میں رہنے والے دینی مکاتب فکر نصاب کے بالمجموع اسٹیک ہولڈر ہیں کیونکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس میں آئین کی اسلامی شقیں جملہ ریاستی امور پر حاکم ہیں لہذا دینی مکاتب فکر کو صرف کسی ایک مضمون تک اسٹیک ہولڈر قرار دینا اور دیگر مضامین میں ان کے لیے رائے کے حق کا قائل نہ ہوا جانا درست نہیں ہے۔

ان کے نزدیک نصاب کی جو پروڈکٹ سامنے آئی ہے اس میں سے لادینیت کی بھی بو آتی ہے۔ نصاب کی بنیادی توجہات  key considerations کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا نئے یکساں نصاب کی جو پروڈکٹ سامنے آئی ہے وہ بعض جگہوں پر اپنے ہی مقاصد اور بنیادی توجہات اور آئین کے دیباچے سے متصادم ہے۔  ان کی تجویز تھی کہ نئے یکساں نصاب تعلیم کو ملک کی نظریاتی اساس سے آگاہ ماہرین تعلیم کے ذریعے third party evaluation  کے لیے پیش کیا جائے۔  [nisarhamdani@gmail.com]

 

وبینار کے پانچویں مقرر محمد ثقلین کا کہنا تھا تعلیم ،تخفیف زدہ ہےEducation is a victim of Reductionism۔ ان کا کہنا تھا اگر  کینسر کے مریض کو  علاج کے نام پر فقط درد کی گولی دی جائے تو مریض تخفیف زدہ ہے نہ کہ زیرِ علاج۔  اگر تعلیم جیسے جامع پراسس کو اصطلاحات اور معلومات یاد کرا دینے تک محدود کر دیں تو طالبِعلم تخفیف زدہ ہے نہ کہ زیرِ تعلیم۔  تخفیف زدہ ہونا یعنی ایک بڑے تصور، بڑی چیز کے کسی چھوٹے سے جزو کو ایسا سمجھ  بیٹھنا جیسے سارے کا سارا، کل کا کْل، یہی سب کچھ ہے اور یہی کافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم ایک پراسس کا نام ہے  ، جو  فکر و نظر کی گہرائی، رویوں  کی راہنمائی، جسمانی اور روحانی استعدادوں کی شگوفائی کے راستے انسان کے جامع کمال کا باعث بنتا ہے۔اور نصاب ِتعلیم  وہ دستاویز ہے  جوبتاتی ہے کہ طالبعلم کیا سیکھے گا اور کیسے سیکھے گا۔  ان کا کہنا تھا ہمارے نصاب تعلیم میں روحانی استعداد کی تو بات ہی جانے دیجئے ہم  نے تو جسمانی استعدادوں کی نشوونما کو بھی نصابِ تعلیم کا حصہ نہیں بنایا۔ فزیکل ایجوکیشن  قصہ پارینہ ہوئی۔  عربی اور فارسی  کو تو نصاب سے خارج کیا ہی تھا، ساری قوم کے لیے ڈرائنگ  اور آرٹ  جیسے فنونِ لطیفہ سے لطف اندوز ہو پانے کی صلاحیت بھی غیر ضروری قرار پائی۔ اب  بتائیے،  کیا  ہماری نسل ۱۲ سال اسکول میں مسلسل تخفیف زدہ رہے گی یا زیرِ تعلیم؟۔ ان کا کہنا تھا نصاب کے معاملے میں  اکثر اسٹیک ہولڈرز بھی تخفیف زدہ ہونے پر راضی نظر آتے ہیں۔ اسٹیک ہولڈر  کی توجہ اور عنایت اس بات کی طرف ذرا کم ہی ہے۔  درسِ شجاعت کے بغیر کربلا؛ درسِ حریت کے بغیر کربلا؛ غیرت اور خودی کے بغیر کربلا – ایک ایسی کربلا  تخفیف زدہ کربلا ہوگی لیکن حسین کی  کربلا نہیں جو علامہ اقبال  کے اپنے الفاظ حریت آموز ہے۔ بقول اقبال "اہلِ حق حریت آموز ازحسین ”

ان کا کہنا تھا نصاب  بنانے والوں نے  مقاصدِ  تدریس میں بارہا قومی یکجہتی کا  ذکر کیا جو انتہائی مستحسن قدم ہے۔ نصاب ساز اداروں نے لسانی، علاقائی،صوبائی، مذہبی، مسلکی تعصب سے بالاتر ہو کر ملی اتحاد قائم کرنے کو  مقصدِ تدریس قرار دیا اور اس مقصد کی خاطر ملک کی لسانی ،علاقائی اور صوبائی اکائیوں کو  ایک دوسرے کی   شخصیات، لٹریچر اور قابلِ دید مقامات سے متعارف کروانے کے لیے اسباق بھی کتب میں شامل کیے گئے۔ لیکن ملک میں بسنے والی بڑی مسلکی اکائیوں  کے لیے ایک دوسرے  کی شخصیات، لٹریچر اور عقائد   سے تعارف شامل نہیں کیا گیا اور اس طرح مکاتب فکر کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے والوں کی بیخ کنی اور باہمی احترام کے جذبات کو فروغ دینے کے  ایک  بہترین موقع  سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔حضرت علی (ع)  کا مشہور قول کہ "لوگ جس چیز کو نہیں جانتے ، اس کے دشمن ہو جاتے ہیں” آج کے دن قومی یکجہتی کے حصول کے لیےبہت کام کی بات تھی۔

ہماری اسلامیات کے نصاب میں توحید تو ہے لیکن کیا یہ وہی توحید ہے جس کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا تھا   "قولا لا الہ الا اللہ تفلحوا” لا الہ الا اللہ کہہ دو، کامیاب ہو جاو گے۔  اس کامیابی کی ضمانت دینے والی، انسان ساز اور معاشرہ ساز توحید کو ہماری نسلیں نصاب میں نہ پائیں گی تو کہاں جائیں گی؟۔ ان کا کہنا تھا اسی طرح ہماری اخلاقیات بھی تخفیف زدہ ہے۔ اس لیے نہیں کہ اخلاقیات کے  ابواب ہر کلاس میں نہیں بلکہ اس لیے کہ طلباء کی شخصیت پر ان ابواب کا اثر نہیں۔ تخفیف زدہ ہونا  فقط مقدار میں کمی پر اکتفا کا نام  نہیں۔ اس سے کہیں بڑا خطرہ  معیار پر کمپرومائز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دانشور اور علماء اس موقع پر تخفیف زدگی سے بلند تر ہو کر سوچیں تو  ان خطرات میں اپنی عظیم ذمہ داری کو ادا کر پانے کے مواقع با آسانی دیکھ سکیں گے۔  [thinktank4education@gmail.com]

 

 پینل میں شریک مذہبی و تعلیمی ماہرین کی آرا کی روشنی میں تجاویز:

  • نئے یکساں نصاب تعلیم پر تعلیمی، نظریاتی اور مذہبی سمیت کئی ایک طبقات کو شدید تحفظات ہیں اس پر نظر ثانی اشد ضروری ہے۔
  • موجودہ نصاب اگر اسی شکل میں نافذ کردیا گیا تو یہ قومی ملی یکجہتی اور اتحاد و یگانگت کی فضا کو نقصان پہنچائے گا لہذا معترض طبقات کو اعتماد میں لیے بغیر اسے نافذ نہیں کیا جانا چاہئے
  • یکساں نصاب میں بعض طبقات کے آئینی حقوق متاثر ہوئے ہیں ان کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے۔
  • یکساں نصاب بناتے ہوئے پاکستان کی بنیادی فالٹ لائنز کو سامنے نہیں رکھا گیا جس کیوجہ سے مسئلہ خاصی حساسیت اختیار کرگیا ہے لہذاملک کی اساسی اور نظریاتی اساس اور فالٹ لائنز سے واقفیت رکھنے والے کسی تیسرے فریق کے ذریعے نصاب پر نظرثانی کروائی اور تمام طبقات کے اعتراضات دور کئے جائیں۔

webinar on SNC 26 feb 2022۔ Download

Previous post
Next post

admin (Website)

administrator

Leave a Reply Cancel reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہم آپ کے لیے انتخاب کرتے ہیں۔
دیگر سرگرمیاں

آئمہ مساجد کے وفد کی الباقر مرکز

by Albaqircenter جولائی 13, 2023 11756 1 min read

گزشتہ روز آئمہ مساجد اور دینی طلبہ کے ایک وفد نے الباقر مرکز مطالعات

مطبوعات

مقدس مذہبی شخصیات کی توہین کا قانون؛

by Albaqircenter جون 30, 2023 537 1 min read

عالمی اداروں کے مطابق توہین مذہب کے قوانین میں سخت گیری کے اعتبار سے

مطبوعات

کتاب "ولایت فقیہ؛ عصرِ غیبت میں اسلام

by Albaqircenter جون 28, 2023 1168 1 min read

الباقر مرکز مطالعات و تحققیات اسلام آباد کی طرف سے کتاب (ولایت فقیہ؛ عصرِ

Copyright © 2026 Qoxag. All Right Reserved.