الباقر مركز تحقيقات ومطالعات
الباقر مركز تحقيقات ومطالعات
  • صفحہ اول
  • علمی مقالات
  • مضامین
  • مختصر تبصرے
  • رپورٹس
  • مطبوعات
  • دیگر سرگرمیاں
  • مجلہ الباقر
  • تعارف
  1. Home
  2. علمی مقالات
  3. مسنون درود شریف کی عبارت قرآن و حدیث کی روشنی میں
علمی مقالات

مسنون درود شریف کی عبارت قرآن و حدیث کی روشنی میں

by admin مئی 12, 2022 707 0 Comment 7 min read

AA

مسنون درود شریف کی عبارت قرآن و حدیث کی روشنی میں

 

سید مجاہد عباس شمسی[1]

 

ابتدائیہ:

درود شریف کی تلاوت الہی حکم ہے جس کی اہمیت اور پڑھنے کا طریقہ کار سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ درود ابراہیمی کے علاوہ درود شریف کی مختصر عبارت بھی  حدیثی مجامع میں صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔   پاکستان میں حکومت وقت نے اگست 2020 میں ایک اعلامیہ کے ذریعے تمام سرکاری و غیر سرکاری ریکارڈ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسم مبارک کے ساتھ لفظ خاتم النبین لکھنے کو لازمی قرار دیا تو مختصر درود شریف کی عبارت بھی تبدیل کر دی گئی۔ قومی اسمبلی کی قرارداد میں کہا گیا  کہ سرکاری و غیر سرکاری ریکارڈ میں جہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسم مبارک آئے وہاں ہر جگہ  یوں لکھا ، پکارااور پڑھا جائے ”حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ وسلم”[2]۔ اس قرارداد پاس ہونے کے  چند دن بعد وفاقی وزارت مذہبی امور نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ملک بھر کے لیے اس قرارداد پر عملدرآمد کو لازمی قرار دے دیا۔[3] اس نوٹفکیشن  کا فوری اثر یہ ہوا ہے تمام سرکاری و غیر سرکاری ریکارڈ خصوصا زیر تدوین نصاب تعلیم میں مختصر درود شریف کی عبارت تبدیل کر دی گئی۔[4] اسی دوران حکومت پنجاب کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام متعلقہ اداروں کو قرارداد پر عملدرآمد کی ہدایت کردی۔[5] جس کے نتیجے میں تمام درسی و غیر درسی کتب میں مختصر درود شریف کی مسنون عبارت تبدیل کردی گئی۔

مذکورہ تبدیلی کیوجہ سے  مسلمانوں کے ایک وسیع طبقے میں تشویش پیدا ہوئی جس کے باعث ان طبقات نے حکومت وقت اور متعلقہ اداروں سے اپنا احتجاج بھی نوٹ کروایا۔ یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر کیا ضرورت تھی کہ مسنون درود شریف کی صدیوں سے رائج مسنون عبارت کو تبدیل کر دیا جائے؟۔ بعض حلقوں نے اسے ریاست کی طرف سے ان کے عقائد اور ایمانیات میں مداخلت قرار دیا جس کا انہیں آئینی تحفظ حاصل ہے۔ لہذا ضرورت محسوس ہوئی کہ اس مسئلے کے علمی پہلو کا جائزہ لیا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود پڑھنے اور اس کے اختصار کا رائج مسنون طریقہ کیا رہا ہے؟۔ اسی ضرورت کے پیش یہ تحقیق مرتب کی گئی ہے۔ جس میں عامۃ المسلمین کے حدیثی مجامع اور پاکستان کے سابقہ نصابات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود شریف پڑھنے کا کیا طریقہ رائج رہا ہے۔

 

قرآن وحدیث کی روشنی میں درود پاک کی مسنون عبارت

درود پاک ایک قرآنی و الہی دستور ہےجس کا سورہ احزاب کی آیت ۵۶  İاِنَّ اللهَ وَمَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَى النَّبِىِّ یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلیما﴾میں حکم صادرفرمایاگیا۔جیسے دیگر عبادات کے دستور آنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی تفصیلات وجزئیات کو بیان فرمایا ایسے ہی اس حکم کی تفصیل و حدود کو بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے بیان کیا ہے۔اس دستور الہی کی تفصیل کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ؛یا اصحاب کے سوال کرنےپر بیان فرمایا یا اس عبادت کی فضلیت کےضمن میں ارشاد فرمایاہے۔اہل سنت کی احادیث کی کتب کی ورق گردانی سے درود پاک کی عبارات مندرجہ ذیل کلمات سے بیان ہوئی ہیں؛

 

۱۔درود ابراہیمی

صحاح ستہ و دیگر کتب میں متعدد صحابہ کرام سے ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  سے درود پاک کی کیفیت وطریقہ کا سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متعارف درود ابراہیمی کی تعلیم فرمائی جیسا کہ حضرت” ابو سعید خذری "سے روایت ہےکہ ہم نےسوال کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !آپ پر سلام کرنے کو تو ہم جانتے ہیں ۔آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے فرمایا:یوں کہو:’’ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ‘‘[6]

کچھ احادیث میں اسی درود ابراہیمی میں کچھ اور کلمات کا اضافہ بھی ملتا ہےجیساکہ "ابومسعود انصاری”سے روایت ہے۔وہ کہتا ہے:ہم "سعد بن عبادہ”کے پاس بیٹھے ہوئے تھےکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ۔”بشیر ابن سعد”نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا:اللہ تعالی نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر دورد بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کیسے درود بھیجیں؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس قدر خاموشی اختیار کرگئے کہ ہم یہ سوچنے لگے کہ اسے یہ سوال نہیں کرنا چاہیےتھا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے فرمایا:’’کہو! قُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ‘‘[7]

کچھ احادیث میں اسی درود ابراہیمی کو ایک اور ترتیب سے بیان فرمایا گیا ہے۔”حکم "کہتاہے:میں نے”عبدالرحمن بن ابی لیلی”سے سناہےکہ اس نے کہا:مجھے "کعب بن عجزہ”ملا اور کہا کہ کیا میں تجھے ایک ہدیہ دوں؟بےشک!رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے سوال کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  پر سلام کرنے کا طریقہ تو جانتے ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  درود کیسے بھیجا جائے؟تو فرمایا:’’کہو: : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‘‘[8]

کچھ احادیث میں درود ابراہیمی میں لفظ ’’امیّ‘‘کا اضافہ کیا گیا ہے۔جیسا کہ”عقبہ بن عمر”سے روایت ہےکہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیاپھر کہا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سلام کرنے کا طریقہ تو ہم جانتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  پر درود کے بارے میں فرمائیں کہ کیسے درود بھیجیں؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے غضبناک ہوئے کہ ہم یہ چاہنے لگے کہ اے کاش!یہ شخص یہ سوال نہ کرتا!۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم مجھ پر درود بھیجو تو کہو! اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‘‘[9]

۲۔درود ابراہیمی میں لفظ ’’آل‘‘کی بجائے’’ازواج وذریت‘‘

کچھ احادیث میں درود ابراہیمی میں موجود لفظ ’’آل‘‘کی بجائے الفاظ’’ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ‘‘کا ذکر ملتا ہے۔جیساکہ "عمرو ابن سلیم زرقی”کہتاہے:مجھے "ابوحمیدساعدی”نے کہا:اصحاب نے سوال کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کیسے درود بھیجیں؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:’’کہو: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ "[10]

 

۳۔مختصر درود

کچھ احادیث میں درود پاک کی کیفیت و طریقہ کا سوال کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مختصر عبارت کو ذکر فرمایا۔جیسا کہ "موسی بن طلحہ”کہتا ہے:میں نے "زید بن خارجہ”سے (درود کےطریقہ )کا سوال کیا تو اس نے کہا:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا:مجھ پر درود بھیجا کرو!اور دعا کرنے کی زیادہ کوشش کیا کرو!اور کہو:’’ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ‘‘[11]

 

۴۔آل کےکلمات کے بغیردرود

ایک حدیث میں”رویفع بن ثابت انصاری”نقل کرتاہےکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:جو بھی یہ کہے گا:’’ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وأَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘تو اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔[12]

 

۵۔عبد اللہ صحابی کا درود

ایک حدیث میں "اسود بن یزید”کہتا ہےکہ "عبد اللہ "نے کہا:جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجا کرو تو اچھے انداز میں بھیجا کرو!چونکہ تم نہیں جانتے شاید یہ تمہارا درود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا جاتا ہو!۔راوی کہتا ہے:ہمیں وہ طریقہ تعلیم دو!اس نے کہا:یوں کہو:’’ اللهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ، وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، إِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخَرُونَ، اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‘‘[13]

 

۶۔نماز کے تشہد میں درود

"عبد الرحمن بن ابی لیلی”اور”ابومعمر”سے روایت ہے کہ ہمیں "ابن مسعود”نے تشہد کی تعلیم دی اور کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں تعلیم دی:’’ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللهُمَّ صَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمْ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلَيْنَا مَعَهُمْ، صَلَوَاتُ اللهِ وَصَلَاةُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، السَّلَامُ عَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ‘‘[14]

۷۔ابوہریرہ کی روایت

ایک حدیث میں "ابوہریرہ "کہتا ہےکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی!ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سلام کا طریقہ جانتے ہیں،پس ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کیسے درود بھیجیں؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:کہو:’’ اللهم اجعل صلواتك و بركاتك على آل محمد كما جعلتها على آل ابراهيم انك حميد مجيد۔‘‘[15]

 

نتیجہ

اگر ان تمام احادیث میں تحقیقی نظر سے دیکھا جائےتو متعدد احادیث میں کافی اصحاب سے درود ابراہیمی نقل ہوا ہے کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ’’محمد و آل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘پر دورد بھیجنے کی تعلیم فرمائی ہے۔جن بعض احادیث میں ازواج کو بھی شامل کیا گیا ہے ،ممکن ہے اس میں راوی کی جانب سے تفصیل ہو کہ وہ’’ آل ‘‘کون ہیں؟اس اختلافی نظر سے  کہ وہ’’ آل‘‘کون ہیں اور کیا ازواج بھی اس میں شامل ہیں یا نہیں؟گریز کرتے ہوئےان احادیث سے ایک قدر متیقن اور حتمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درود میں آل کو تو شامل کیا ہے لیکن اصحاب کو شامل نہیں کیا ہے۔

 

کیا درود پاک میں صحابہ  کے اضافے کا کوئی مستند حوالہ یا دلیل ہے؟

درود پاک میں صحابہ کو بھی شریک کرنے کے بارے اہل سنت میں دو نظریات پائے جاتے ہیں؛

نظریہ اول:درود پاک کا امتی کے لئے  جائزہونا

علمائے اہل سنت کی ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ نہ صرف درود پاک میں اصحاب کو شامل کرنا جائز ہے بلکہ ہر امتی کو شامل کرنا جائز ہے۔ فرق یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر مستقیمادرود بھیجنا جائز ہے لیکن امتی پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع میں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود پڑھتے ہوئے شامل کیا جا سکتا ہے وگرنہ مستقل طور پر اور مستیقما جائز نہیں ہے۔اس نظریہ پر وہ قرآن کی آیات اور مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روایات کو دلیل بناتے ہیں جوکہ مندرجہ ذیل ہیں؛

 

قرآنی ادلہ؛

الف: İ هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ۔۔۔؛اللہ تعالی تم پر درود بھیجتاہے﴾[16]

ب: İ وَ صَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ؛اے رسولصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم ان (مومنین)پر درود بھیجو!بے شک!تمہارا درود ان کے لئے سکون ہے۔﴾[17]

ج:İ أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَ رَحْمَة؛یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود اور رحمت ہے۔﴾[18]

چونکہ صحابہ بھی مومن تھے تو پس ان پر بھی خدا اور رسول نے درود بھیجا لہذا ان پراورتمام مومنین پر  درود بھیجنا جائز ہے۔

 

حدیثی ادلہ؛

اس موقف پر کچھ احادیث کو ادلہ بنایا جاتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں؛

الف:”عبد اللہ ابن ابی اوفی”کہتاہے:جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی قوم صدقہ (زکات)لے کر آتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلاَنٍ۔میراباپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس صدقہ لے کر گیا تو فرمایا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى‘‘[19]

یا اس جیسی اور حدیث کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی امتی پر درود بھیجا۔

 

ب:”ابی سعید خذریؓ”سے روایت ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے بھی مال حلا ل سے کچھ کسب کرکے کھایا یا پہنا تو اس کے غیر کے لئے زکات ہے(یعنی وہ فقیر کہ جو اپنے لئے کما نہیں سکتا اس کے لئےزکات ہے)۔جس شخص کے پاس زکات دینے کے لئے نہ ہوتو اسے چاہیے اپنی دعا میں یہ کہے: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ۔بے شک!یہ اس کے لئے زکات ہے۔[20]

ج:”انس بن مالک”سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا گیا :آل محمد کون ہیں؟تو فرمایا:’’ہر متقی و پرہیز گار۔‘‘[21]

د:”طبرانی”نے اپنے ایک طریق سے "کعب بن عجزہ”سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیتİ إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾[22]نازل ہوئی تو ہم نے کہا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !سلام کے طریقہ کو تو ہم جانتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کیسے درود بھیجیں؟فرمایا:کہو:’’ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ الْحَمِيدُ الْمَجِيدُ، وَصَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمْ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ الْحَمِيدُ الْمَجِيدُ، وَبَارِكْ عَلَيْنَا مَعَهُمْ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ‘‘[23]

 

مشہور ومعروف مفسر قرآن”زمخشری”بھی اسی نظریہ کا قائل ہے اور ان آیات وایک حدیث سےیوں استدلال کرتا ہے:

’’اگر آپ کہیں کہ غیر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے ؟تو میں کہوں گا کہ تمام مومنین پر درود بھیجنے کے جواز پر قیاس کرتے ہوئے جائزہے۔چونکہ خدا تعالی نے فرمایا:İ هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ؛اللہ تعالی تم پر درود بھیجتاہے﴾یا فرمایا:İ وَ صَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ؛اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم ان (مومنین)پر درود بھیجو!بے شک!تمہارا درود ان کے لئے سکون ہے۔﴾یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے فرمایا:’’ اللهم صل على آل أبى أوفى؛اے اللہ!آل ابی اوفی پر درود نازل فرما!۔‘‘لیکن امتی پر درود بھیجنے میں علماء تفصیل کےقائل ہیں؛اگر امتی پردرود کو تبعیت کے طور پر بھیجا جائے جیسا کہ یوں بھیجا جائے: ’’صلى اللّه على النبي و آله‘‘تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔لیکن اگر اہل بیت  پر انفرادی طور پر درود بھیجا جائے جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بھیجا جاتا ہے تو یہ مکروہ ہے۔چونکہ درود بھیجنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے لئے شعار بن گیا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ایسا کرنے سے رافضی ہونے کی تہمت لگ سکتی ہےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے تہمت والے موارد میں نہیں پڑنا چاہیے!۔‘‘ [24]

"زمخشری”اور اس نظریہ کے قائلین علماء قرآن کی ان آیات سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ چونکہ اصحاب بھی مومن تھے اور ان پر اللہ اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ اصحاب پر درود بھیجا ہے تو امتی پر درود بھیجنا جائز ہے۔

 

نظریہ دوم:درود پاک صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے ساتھ خاص

درود پاک صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے شعار ہے۔پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ کسی اور کو درود میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔اس نظریہ کے قائلین میں ایک مشہور محقق و مفسر قرآن "شوکانی”ہےاور اس نظریہ کو جمہور علماء اہل سنت کی طرف منسوب کرتا ہے۔وہ سورہ احزاب کی ۵۶ آیت کے ضمن میں کہتاہے:

’’ آپ جان لیں کہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنے رسول پر درود کا اگرچہ معنی رحمت کا نزول ہے لیکن یہ درود صرف آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے شعار ہےبن گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص ہے نہ کہ کسی اور کو بھی شامل ہے۔پس ہمارے لئے جائز  نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی امت میں سے کسی اور پر درود بھیجیں!۔جیسا کہ ہمارے لئے یہ جائز ہے کہ امتی کے لئے یہ کہیں:’’ اللهم ارحم فلانا أو رحم اللّه فلانا؛اے اللہ فلان پر رحم فرما یا خدا فلان پر رحم فرمائے۔‘‘جمہور علماء  اسی(درود کاصرف آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص ہونا)کے قائل ہیں جب کہ ان میں تین طرح کی اختلاف رائے پائی جاتا ہے کہ کیا امتی پر درود بھیجنا حرام ہے یاشدید کراہت کے ساتھ مکروہ ہے یا کراہت تنزیہ کے ساتھ مکروہ ہے؟‘‘

پھراپنے نظریہ کی تائید کے لئے کہتا ہے:

’’حضرت "ابن عباسؓ”نے بھی یہی کہا ہے جیساکہ "ابن ابی شیبیہ”اور” بیہقی”نے اپنی کتاب’’شعب الایمان‘‘میں ان سے نقل کیا ہے:نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ کسی پر درود بھیجنا اچھی بات نہیں ہے لیکن مسلمین و مسلمات کے استغفار کی دعا کی جاسکتی ہے۔‘‘[25]

پھر امتی (صحابہ)پر درود کے قائلین کی ادلہ کو یوں ردّ کرتا ہے؛

’’ایک قوم کہتی ہے کہ (امتی)کے لئے درود جائز ہےچونکہ اللہ تعالی نے فرمایا:İ وَ صَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ ﴾ ،İ أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ ﴾اورİهُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَ مَلائِكَتُهُ﴾۔اسی طرح صحیحین اور ان کے علاوہ دیگر کتب میں موجود "عبداللہ بن ابی اوفی”کی اس روایت کی وجہ سےکہ جس میں اس نے کہا ہے:جب کوئی قوم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس زکات لے کر آتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: ’’اللّهمّ صلّ عليهم‘‘۔میرا باپ بھی زکات لے کر گیا تو فرمایا:’’ اللّهمّ صلّ على آل أبي أوفى‘‘۔

پھر ان ادلہ کی یوں ردّ کرتا ہے؛

’’درود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےساتھ ایک ثابت شعار ہےاور یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق ہے کہ جس کو چاہے اس کے ساتھ خاص کرےلیکن ہمارے لئے کوئی حق نہیں ہے کہ ہم اس شعار کو غیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اطلاق کریں۔جو آیات کی بات ہے تو اس میں صرف یہی ہے کہ اللہ تعالی کچھ افراد پر درود بھیجتا ہے۔جیسا کہ اس شخص پر دس بار درود بھیجتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایک بار درود بھیجتا ہے۔لیکن ان آیات میں ہمیں حکم نہیں دیا گیا اور ہمارے حق میں اللہ کی طرف سے جائز ہونا ثابت نہیں ہے بلکہ ہمارے لئے جو شرعی حکم ہے وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود وسلام بھیجنا ہے۔جیسا درود کا لفظ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے شعار ہےایسے ہی لفظ’’سلام علیہ‘‘بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص ہے۔یقینا اس امت کے جمہور اورسواد اعظم  کی سلف  و خلف سے یہی عادت رہی ہے کہ صحابہ پر ترضی(رضی اللہ عنہ)اور ان کے بعد والوں پر ترحم(رحمہ اللہ)و ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کی جاتی ہے۔جیساکہ اسی بات کی طرف اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان سےہمیں رہنمائی کی ہے:İَ الَّذِينَ جاؤُ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنا وَ لِإِخْوانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونا بِالْإِيمانِ وَ لا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾‘‘[26]

 

تحقیق

سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ لفظ’’صلاۃ؛درود‘‘کی لغوی وضاحت ہونا چاہیے۔یہ ایسا لفظ ہے کہ جس کا اسناد اللہ تعالی،اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، ملائکہ ا ور اسی طرح انسانوں کی طرف دیا جاتا ہےلیکن ہر اسناد میں اس کا معنی ایک جیسا نہیں ہوتا ہے۔چونکہ لغت میں اس لفظ کا معنی’’دعا کرنا‘‘ہےجیساکہ "راغب اصفہانی”نے ذکر کیا ہے:’’ صَلَّيْتُ عليه، أي: دعوت له و زكّيت؛میں نے اس پر درود بھیجا یعنی اس کے لئے دعا کی اور اس کے لئے مغفرت طلب کی۔‘‘[27]پس جب اس لفظ کی نسبت خدا تعالی کی طرف دی جائے تو اس وقت خدا تعالی کسی سے طلب دعا نہیں کرتا بلکہ جس پر درود بھیجا جائے اس کو مغفرت عطا فرماتا ہے۔جیسا کہ "راغب اصفہانی”نے ذکر کیا ہے:’’ َ صَلَواتِ الرَّسُولِ‏ [التوبة/ 99]، و صَلَاةُ اللّهِ للمسلمين هو في التّحقيق: تزكيته إيّاهم و من الملائكة هي الدّعاء و الاستغفار، كما هي من النّاس؛اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مسلمین کے لئے درود بھیجنا،حقیقت میں ان کا تزکیہ(بخشش)ہوتی ہےاور ملائکہ کی طرف سے دعا وطلب استغفار ہوتاہے جیسا کہ انسانوں کی طرف سے بھی ایسے ہی ہے۔‘‘[28]

"فراہیدی”لغت شناس کہتا ہے:’’و صلوات الرسول للمسلمين: دعاؤه لهم و ذكرهم. و صلوات الله على أنبيائه و الصالحين من خلقه: حسن ثنائه عليهم و حسن ذكره لهم. و قيل: مغفرته لهم؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مسلمانوں کے لئے درود بھیجنا؛ان کے لئے دعا کرنا اور ان کو یاد کرنا ہےاور اللہ تعالی کا اپنے انبیاء اور اپنی مخلوق میں سے صالح افراد کے لئے درود بھیجنا؛ان کی اچھی تعریف کرنا اور ان کا اچھا تذکرہ کرنا ہے۔‘‘[29]

پس معلوم ہوگیا کہ جب انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجتاہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی رحمت کا طلبگار اور درجات میں اضافہ کا خواستگار ہوتا ہےلیکن جب کسی امتی کے لئے لفظ’’صلاۃ‘‘کواستعمال ہوتو دعا وبخشش کے معنی میں ہوتاہے۔

اہلسنت کے حدیثی مصادر میں موجود احادیث میں تحقیق سے مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں؛

الف:اہل سنت کے عالم (شوکانی)نے جمہور علماء کی طرف نسبت دی ہے کہ امتی پر درود بھیجنا درست نہیں ہے چونکہ یہ لفظ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص ہے۔

ب:جو تمام مومنین پر درود کے قائلین ہیں ان کی قرآنی ادلہ اور کچھ حدیثی ادلہ کو خود علمائے اہل سنت نے ردّ کردیا ہے اور صرف کچھ احادیث باقی ہیں کہ جن سے جواز کا شائبہ ہو سکتا ہے۔ان کا جواب اختصار سے عرض خدمت ہے؛

۱۔”ابوسعید خذری”والی حدیث کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مومنین پر بھی درود بھیجنے کافرمایا:’’ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ۔بے شک!یہ اس کے لئے زکات ہے۔[30]تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے لئے ایک فعل’’صل ‘‘اور پھر مومنین کے لئے علیحدہ سے دوسرا فعل’’صل‘‘استعمال کیا ہے۔لہذا پہلے فعل کا جو بھی معنی کیا جائے دوسرے کا معنی مومنین کے لئے بخشش کی دعا ہوگا۔اسی طرح "کعب بن عجزہ”والی روایت کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے اسی روش سے فرمایا:’’ وَصَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمْ؛اور ہم پر بھی درودبھیج‘‘ تو اس کا مطلب بھی یہی ہوگایعنی ’’ہمیں  معاف فرما ‘‘۔اس کے علاوہ "طبرانی”نے اسی راوی سے تقریبا دس کے قریب مختلف طرق سے روایت نقل کی ہے اور باقی سب میں یہ الفاظ نہیں ہیں بلکہ صرف اس ایک روایت میں ملتا ہے۔اسی طرح صحیحین میں بھی اسی راوی سے یہی روایت ذکر ہے لیکن یہ کلمات ذکر نہیں ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک روایت دوسری کی مقابل میں ضعیف ہے۔

۲۔وہ حدیث کہ جس میں پوری امت میں نیک افراد کو ’’آل‘‘کہا گیا ہے؛اگر اسے قبول کر لیاجائے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ متعدد احادیث کہ جن میں آل پر صدقہ حرام بیان کیا گیا،اس کے مطابق تو پھر پوری امت پر صدقہ حرام ہو جائے گا۔پس ضروری ہے کہ یا اس ایک حدیث کو صحیح مانا جائے یا ان متعدد احادیث کوکہ جن میں بعض خاص قبیلے جیساکہ” بنی ہاشم”و”آل جعفر”وغیرہ پر صدقہ کو حرام قرار دیتے ہوئے آل بیان کیا گیا۔

۳۔  اہل سنت علماء نے کہا ہے کہ امتی پر درود مستقل نہیں بھیجا جا سکتا بلکہ تبعا بھیجا جاسکتا ہے۔

اولا:اس کے بارے عرض ہوگی کہ جو چیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا شعار بن گئی ہو تو اس کا تبعا بھی استعمال جائز نہیں ہونا چاہیے چونکہ یہ کہا ں کی عقلمندی ہے کہ جوچیز مستقل جائز نہیں اسے تبعا جائزقرار دے دیا جائے؟

ثانیا:اگر آج یہ کہا جائے’’اللہم صل علی زید‘‘یا یہ کہا جائے’’اللہم صل علی محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  و زید‘‘یا "زید”کی بجائے کسی بہت بڑے اہل سنت عالم کے لئے یہ جملہ استعمال کیا جائے تو کیا کوئی بھی اہل سنت عالم دین اس کو جائز و صحیح قرار دے گا؟

ہرگز نہیں !تو ہماراسوال ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی بھی صحابی حتی کہ خلفاء پر بھی درود بھیجنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اگرکچھ قرآن سے یا روایات سے لایا بھی جاتا ہے تو وہ تمام مومنین کے لئے بیان ہوا ہے،تو پھر خاص طور پر درود پاک میں اصحاب کوشامل کرنا کس دلیل سے ہے؟کیا صرف صحابہ ہی مومنین ہیں؟یابقول "شوکانی”جمہور علمائے اہل سنت اور شیعہ کی مخالفت میں خاص طور پر شامل کیا جارہا ہے؟

ثالثا:درود ایک الہی حکم و عبادت ہے توجب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درود کا طریقہ بیان فرمایا تھا اوراس میں ’’آل‘‘کو تو شامل فرما دیا تو کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو علم نہیں تھا کہ میرے صحابہ پر بھی درود ہونا چاہیے؟اگر ضروری سمجھتے تو جہاں ’’آل‘‘کو شامل کیا ہے وہاں پر تمام اصحاب نہ سہی ،کچھ خاص کو شامل کرکے فرماتے کہ ان پر بھی درود بھیجنا!

اگر کہا جائے کہ بعض احادیث میں ’’صل علینا‘‘یا ’’صل علی المومنین‘‘ذکر ہوا ہےتو ظاہر ہے کہ یہ صحابہ کو شامل ہوگا

تو اس کے بارے عرض کی جائے گی کہ ان میں تو پھر ہم بھی شامل ہیں اور قیامت تک کے مومنین بھی شامل ہیں!۔پس ’’آل‘‘کو اپنے ساتھ درود میں شریک کرنا اور اصحاب کو شریک نہ کرنا،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی خاص حکمت کی وجہ سے ہے۔

۴۔درود پاک کے بارے جتنی بھی احادیث ہیں،ان میں صرف ’’آل محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘پر یا کچھ ایک میں ’’ازواج‘‘پردرود بھیجتے ہوئے  آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف ایک ہی فعل یعنی’’اللہم صل علی محمد و آل محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘استعمال فرمایاہے اور ہمیں بھی اسی طرح درود پاک بھیجنے کا حکم دیاہے۔یہ ایک واضح نکتہ ہے کہ صرف یہی وہ ہستیاں ہیں کہ جن کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درود میں اپنے ہمراہ شامل کیا ہےاور اگر ان پر مستقل بھی درود بھیجا جائے تو ناجائز نہیں ہوگا۔چونکہ جیسا  جس فعل کےساتھ آپصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پردرود ہے،اسی میں ان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

۵۔ہماری باتوں کی تائید خود حضرت”ابن عباس”جیسے جلیل القدر کے قول سے بھی ہوتی ہے جیساکہ "سیوطی”اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے:’’ قال لا تصلح الصلاة على أحد الا النبي صلى الله عليه و سلم و لكن يدعى للمسلمين و المسلمات بالاستغفار؛ابن عباسؓ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ کسی پر بھی درود بھیجنا درست نہیں ہے لیکن مسلمین ومسلمات کے لئے مغفرت کی دعا کی جائےگی!۔‘‘ [31]

ممکن ہے کہا جائے کہ پھر تو ’’آل‘‘پر بھی درود نہیں بھیجنا چاہیے!

توعرض ہوگی کہ ان کامعاملہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مومنین ومسلمانوں سے جدا رکھا ہے۔چونکہ ان کو اپنے ساتھ درود میں شامل کیاہے۔”امام شافعی "کا یہ قول’’ یَا آلَ بَیتِ رَسولِ الله حُبُّکُمُ فَرضٌ مِنَ الله فی القُرآنِ أنزَلَهُ کَفاکُم مِن عظیمِ القَدرِ أنّکُم مَن لَم یُصلِّ عَلَیکُم لَا صَلَاةَ لَهُ ‘‘ کہ جس میں اس نے کہا:’’ اے اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس نے آپ پر درود نا بھیجا اس کی نماز ہی نہیں !‘‘بھی اسی بات کی تصدیق ہے۔

 

کیا دورد شریف کی مختصر عبارت،مسنون درود سے مختلف ہونی چاہیے؟

جیساکہ پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ درود ،باقی عبادات کی طرح ایک الہی عبادت ہے کہ جس کا طریقہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان فرمایا تو جہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےدرود ابراہیمی کی صورت میں اس کاتفصیلی طریقہ بیان فرمایا،وہیں پر اس عبادت کا مختصر اور جامع طریقہ بھی بیان فرمادیا ہے کہ جس کو تمام اہل سنت علماء نے اپنی حدیثی کتب میں ذکر کیا ہےجیسا کہ "موسی بن طلحہ”کہتا ہے:میں نے "زید بن خارجہ”سے (درود کےطریقہ )کا سوال کیا تو اس نے کہا:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا:مجھ پر درود بھیجا کرو!اور دعا کرنے کی زیادہ کوشش کیا کرو!اور کہو:’’ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ‘‘[32]

پس جب خودسرور کائنات نے اس عبادت کو مختصر فرمادیا اور تفصیلی درود پاک کا خلاصہ فرما دیا تو اس سے بہتر مختصر عبارت کوئی نہیں ہوسکتی!

جی ہاں!اگر اپنی مرضی سے جس کو شامل کیا جائے تو یہ ایک الگ بات ہے وگرنہ اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو اس مسئلہ میں کوئی ابہام باقی نہیں چھوڑا!۔

 

درود شریف کی عبارت کے حوالے سے سرکاری وغیر سرکاری دستاویزات میں سابقہ روایت کیارہی ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود شریف پڑھنے اور لکھنے کی سابقہ روایت نئی تبدیلی سے مختلف ہے۔ اگست 2020 میں پاس ہونے والی قرارداد  اس سلسلے میں پاکستان کی تاریخ میں سابقہ نہیں رکھتی کہ یوں ایک قرارداد یا اس کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری کرکے درود شریف کی مختصر یا تفصیلی عبارت میں کوئی تصرف کیا گیا ہو۔ یہ اس نوعیت کی پہلی مداخلت ہے۔ سابقہ نصابات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں درود شریف کی مختصر عبارت کے بارے صراحت کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ جہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسم مبارک آئے وہاں کمپیوٹر میں دئیے گئے اختصار پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ہر جگہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پورا لکھا جائے۔[33] یکساں قومی  نصاب 2020 میں نہ صرف اس جگہ درود شریف کی عبارت تبدیل کی گئی ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسم مبارک آیا ہے بلکہ مستقلا جماعت سوم میں جہاں مختصر درود شریف حفظ کروانے کی بات کی گئی ہے وہاں بھی درود شریف کی عبارت تبدیل کر دی گئی ہے اور لکھا گیا ہے کہ مختصر درود شریف (صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ وسلم ) مع مفہوم یاد کرسکیں۔[34]  سابقہ تمام نصابات میں نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسم مبارک کے ساتھ بلکہ جہاں مستقلا بھی مختصر درود شریف کی عبارت شامل کی گئی ہے وہ یوں تھی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)۔[35] قومی نصاب برائے اسلامیات2006 میں  بھی جہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسم مبارک لکھا گیا ہے وہاں مختصر درود کی مسنون عبارت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ہی درج کی گئی ہے۔[36] ان کے علاوہ دیگر سابقہ نصابات میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسم مبارک  کے ساتھ اور مستقلا مختصر درود شریف حفظ کروانے کے باب میں درود شریف کی مسنون عبارت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )  ہی شامل کی جاتی رہی ہے۔ [37]

خلاصہ سابقہ تمام نصابات کی روش یہی رہی ہے کہ جہاں درود ابراہیمی کو شامل کیا گیا ہے وہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسم گرامی کے ساتھ اور مستقلا  درود شریف کی مختصر عبارت  یوں ہی لکھی اور پڑھی جاتی رہی ہے (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور اس میں تبدیلی کی کوئی مثال سابقہ نصابات میں نہیں ملتی۔

 

درود پاک میں صحابہ کے اضافے سے مذہبی رواداری پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟

درود شریف ایک الہی حکم ہے جس کی تشریح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود فرمائی ہے۔ حدیثی مجامع میں اس کی صراحت موجود ہے کہ درود شریف میں کون سی ہستیاں شامل ہیں اور کون شامل نہیں ہیں ؟۔ مقالہ میں پیش کی گئی ادلہ اور وضاحت کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ درود شریف میں صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی آل شامل ہیں۔  درود شریف کے مسنون اور رائج حکم کو تبدیل کرنا ایمانیات میں دخالت ہے جس سے آئین نے تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کررکھا  ہے۔ مسنون درود شریف کی عبارت تبدیل کرکے درسی و غیر درسی کتب میں  غیر مسنون عبارت لازمی قرار دینا  شہریوں کے عقیدے کی آزادی کے بنیادی آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔ آئین پاکستان نے مذہبی آزادیوں کو بنیادی حقوق کے باب میں شامل کیا ہے۔ نیز آئین کے آرٹیکل 227 کے تحت شخصی امور میں قرآن و سنت کی ہر مکتب فکر کی اپنی تعبیر کو بھی رسمیت حاصل ہے لہذا درود شریف کے بارے کسی دوسرے مکتب فکر کی تعبیر کو سب پر زبردستی نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ زبردستی ایسا کرنے سے معاشرے میں موجود مذہبی ہم آہنگی ، روداری اور قومی و ملی یکجہتی کو نقصان پہنچے گا۔

[1] ایم فل فقہ و معارف اسلامی، فیکلٹی فقہ و معارف حجتیہ، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی قم، ایران۔  Mujahidshamsi5121@gmail.com

[2] Resolution no 462, national assembly of Pakistan, August 12, 2020

[3] Government of Pakistan Ministry of religious affairs and interfaith harmony, notification no. f.1(1)ad(isl)2016, Islamabad, the 21st august,2020.

[4] یکساں قومی نصاب 2020، وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت اسلام آباد پاکستان۔

[5] Government of the punjab school education department, notification no. so. (a-1) 1-31/2008(p-I), Lahore, the 29th December,2020.

[6] ۔ابن ماجہ،باب الصلاۃ علی النبی ص،ج۱،ص۲۹۲۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: ” قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ”

[7] ۔ صحیح مسلم،باب الصلاۃ علی النبی ص ،ج۱،ص۳۰۵۔ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ، هُوَ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللهُ تَعَالَى أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ»

[8] ۔صحیح بخاری،باب الصلاۃ علی النبی ص،ج۸،ص۷۷؛صحیح مسلم،باب الصلاۃ علی النبی ص ،ج۱،ص۳۰۵۔ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، فَقَالَ: أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: ” فَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ”

[9] ۔طبرانی،المعجم الکبیر،ج۱۷،ص۲۵۱۔ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا زُهَيْرٌ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، وَأَمَّا الصَّلَاةُ عَلَيْكَ فَأَخْبِرْنَا بِهَا، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَدِدْنَا أنَّ الرَّجُلَ الَّذِي سَأَلَهُ لَمْ يَكُنْ سَأَلَهُ، فَقَالَ: ” إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ”

 

[10] ۔بخاری،صحیح،باب ھل یصلی علی غیر النبی،ج۸،ص۷۷۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: ” قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ”

[11] ۔سنن الکبری لنسائی،باب کیفیت الصلاۃ علی النبی ص،ج۲،ص۷۵۔ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ خَارِجَةَ، قَالَ: أَنَا سَأَلْتُ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ” صَلَّوْا عَلَيَّ، وَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، وَقُولُوا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ”

[12] ۔المعجم الکبیر لطبرانی،باب رویفع بن ثابت انصاری،ج۵،ص۲۵۔

[13] ۔طبرانی،المعجم الکبیر،باب خطبہ ابن مسعود،ج۹،ص۱۱۵۔ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، قَالَ: ابْنُ رَجَاءَ، أَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَسِّنُوا الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّ ذَلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ» ، قَالَ: فَعَلَّمَنَا، قَالَ: ” قُولُوا: اللهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ، وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، إِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخَرُونَ، اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ”

[14] ۔طبرانی،المعجم الکبیر،ج۱۰،ص۵۴۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ وَفَاءِ بْنِ شُرَيحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ قَالَ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وأَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي ”

[15] ۔ الدرر المنثور،ج۵،ص۲۱۷۔ و أخرج ابن مردويه عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قلنا يا رسول الله قد علمنا كيف السلام عليك فكيف نصلى عليك قال قولوا اللهم اجعل صلواتك و بركاتك على آل محمد كما جعلتها على آل ابراهيم انك حميد مجيد

[16] ۔احزاب،۴۳۔

[17] ۔توبہ،۱۰۳۔

[18] ۔بقرہ،۱۵۷۔

[19] ۔بخاری،صحیح،باب صلاۃ الامام و دعائہ لصاحب الصدقہ،ج۲،ص۱۲۹۔ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، قَالَ: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلاَنٍ»، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى»

[20] ۔الآداب للبیھقی،باب الرغبۃ فی طلب الرزق۔۔،ج۱،ص۳۱۶۔ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ: ” أَيُّمَا رَجُلٍ كَسَبَ مَالًا مِنْ حَلَالٍ فَأَطْعَمْ نَفْسَهُ أَوْ كَسَاهَا فَمَنْ دُونَهُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَإِنَّهَا لَهُ  زَكَاةٌ. وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَهُ صَدَقَةٌ فَلْيَقُلْ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، فَإِنَّهَا لَهُ زَكَاةٌ ”

[21] ۔طبرانی،المعجم الاوسط،باب من اسمہ جعفر،ج۳،ص۳۳۸۔ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ قَالَ: نَا نُعَيْمٌ قَالَ: نَا نُوحٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ فَقَالَ: «كُلُّ تَقِيٍّ»

[22] ۔احزاب،۵۶۔

[23] ۔طبرانی،المعجم الکبیر،ج۱۹،ص۱۲۵۔ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، يَقُولُ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [الأحزاب: 56] ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا السَّلَامُ قَدْ عَرَفْنَاهُ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟، قَالَ: ” تَقُولُونَ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ الْحَمِيدُ الْمَجِيدُ، وَصَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمْ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ الْحَمِيدُ الْمَجِيدُ، وَبَارِكْ عَلَيْنَا مَعَهُمْ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ”

[24] ۔زمخشری،الکشاف،ج۳،ص۵۵۸۔ فإن قلت: فما تقول في الصلاة على غيره؟ قلت: القياس جواز الصلاة على كل مؤمن، لقوله تعالى هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ و قوله تعالى وَ صَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ و قوله صلى اللّه عليه و سلم «اللهم صل على آل أبى أوفى» «3» و لكن للعلماء تفصيلا في ذلك: و هو أنها إن كانت على سبيل التبع كقولك: صلى اللّه على النبي و آله، فلا كلام فيها. و أما إذا أفرد غيره من أهل البيت بالصلاة كما يفرد هو، فمكروه، لأن ذلك صار شعارا لذكر رسول اللّه صلى اللّه عليه و سلم، و لأنه يؤدى إلى الاتهام بالرفض. و قال رسول اللّه صلى اللّه عليه و سلم: من كان يؤمن باللّه و اليوم الآخر فلا يقفن مواقف التهم

[25] ۔شوکانی، فتح القدیر،ج۴،ص۳۴۷۔ و اعلم أن هذه الصلاة من اللّه على رسوله و إن كان معناها الرحمة فقد صارت شعارا له يختصّ به دون غيره، فلا يجوز لنا أن نصلي على غيره من أمته، كما يجوز لنا أن نقول: اللهم ارحم فلانا أو رحم اللّه فلانا، و بهذا قال جمهور العلماء مع اختلافهم هل هو محرّم، أو مكروه كراهة شديدة، أو مكروه كراهة تنزيه على ثلاثة أقوال. و قد قال ابن عباس كما رواه عنه ابن أبي شيبة، و البيهقي في الشعب لا تصلح الصلاة على أحد إلا على النبيّ صلّى اللّه عليه و سلم، و لكن يدعى للمسلمين و المسلمات بالاستغفار.

[26] ۔شوکانی،فتح القدیر،ج۴،ص۳۴۷۔ و قال قوم: إن ذلك جائز لقوله تعالى:وَ صَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ «1» و لقوله: أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ «2» و لقوله:هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَ مَلائِكَتُهُ و لحديث عبد اللّه بن أبي أوفى الثابت في الصحيحين و غيرهما قال: «كان رسول اللّه صلّى اللّه عليه و سلم إذا أتاه قوم بصدقتهم قال: اللّهمّ صلّ عليهم، فأتاه أبي بصدقته فقال: اللّهمّ صلّ على آل أبي أوفى» و يجاب عن هذا بأن هذا الشعار الثابت لرسول اللّه صلّى اللّه عليه و سلم له أن يخص به من شاء، و ليس لنا أن نطلقه على غيره. و أما قوله تعالى: هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَ مَلائِكَتُهُ و قوله: أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ فهذا ليس فيه إلا أن اللّه سبحانه يصلي على طوائف من عباده كما يصلي على من صلى على رسوله مرّة واحدة عشر صلوات، و ليس في ذلك أمر لنا و لا شرعة اللّه في حقنا، بل لم يشرع لنا إلا الصلاة و التسليم على رسوله. و كما أن لفظ الصلاة على رسول اللّه صلّى اللّه عليه و سلم شعار له، فكذا لفظ السلام عليه. و قد جرت عادة جمهور هذه الأمة، و السواد الأعظم من سلفها و خلفها على الترضي عن الصحابة، و الترحم على من بعدهم، و الدعاء لهم بمغفرة اللّه و عفوه، كما أرشدنا إلى ذلك بقوله سبحانه: وَ الَّذِينَ جاؤُ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنا وَ لِإِخْوانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونا بِالْإِيمانِ وَ لا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا۔

[27] ۔راغب اصفہانی،المفردات،کلمہ’’صلو‘‘،ص۴۹۱۔

[28] ۔ایضا۔

[29] ۔فراہیدی،العین،کلمہ’’صلو‘‘ج۷،ص۱۵۴۔

[30] ۔الآداب للبیھقی،باب الرغبۃ فی طلب الرزق۔۔،ج۱،ص۳۱۶۔ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ: ” أَيُّمَا رَجُلٍ كَسَبَ مَالًا مِنْ حَلَالٍ فَأَطْعَمْ نَفْسَهُ أَوْ كَسَاهَا فَمَنْ دُونَهُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَإِنَّهَا لَهُ  زَكَاةٌ. وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَهُ صَدَقَةٌ فَلْيَقُلْ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، فَإِنَّهَا لَهُ زَكَاةٌ ”

[31] ۔سیوطی،الدرر المنثور،ج۵،ص۲۲۰۔ و أخرج ابن أبى شيبة و القاضي إسماعيل و ابن مردويه و البيهقي في شعب الايمان عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لا تصلح الصلاة على أحد الا النبي صلى الله عليه و سلم و لكن يدعى للمسلمين و المسلمات بالاستغفار

[32] ۔سنن الکبری لنسائی،باب کیفیت الصلاۃ علی النبی ص،ج۲،ص۷۵۔ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ خَارِجَةَ، قَالَ: أَنَا سَأَلْتُ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ” صَلَّوْا عَلَيَّ، وَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، وَقُولُوا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ”

[33] قومی نصاب برائے اسلامیات ، 2009، ہدایات برائے مصنفیں/مولفین کتاب،حکومت پاکستان وزارت تعلیم اسلام آباد

[34] یکساں قومی نصاب برائے اسلامیات 2020، جماعت دوم، وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت اسلام آباد حکومت پاکستان

[35] نصاب برائے اسلامیات لازمی جماعت اول تا پنجم، جماعت اول، حفظ و ترجمہ۔ قومی ادارہ برائے نصاب و درسی کتب، وزارت تعلیم، حکومت پاکستان اسلام آباد2002۔

[36] قومی نصاب برائے اسلامیات 2006،وزارت تعلیم شعبہ نصابیات، حکومت پاکستان اسلام آباد۔

[37] اسلامیات / دینیات برائے جماعت اول تا دہم، قومی ادارہ نصاب و درسی کتب، وزارت تعلیم و صوبائی رابطہ حکومت پاکستان 1975، اسلام آباد۔

 

Download

Previous post
Next post

admin (Website)

administrator

Leave a Reply Cancel reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہم آپ کے لیے انتخاب کرتے ہیں۔
دیگر سرگرمیاں

آئمہ مساجد کے وفد کی الباقر مرکز

by Albaqircenter جولائی 13, 2023 11757 1 min read

گزشتہ روز آئمہ مساجد اور دینی طلبہ کے ایک وفد نے الباقر مرکز مطالعات

مطبوعات

مقدس مذہبی شخصیات کی توہین کا قانون؛

by Albaqircenter جون 30, 2023 537 1 min read

عالمی اداروں کے مطابق توہین مذہب کے قوانین میں سخت گیری کے اعتبار سے

مطبوعات

کتاب "ولایت فقیہ؛ عصرِ غیبت میں اسلام

by Albaqircenter جون 28, 2023 1169 1 min read

الباقر مرکز مطالعات و تحققیات اسلام آباد کی طرف سے کتاب (ولایت فقیہ؛ عصرِ

Copyright © 2026 Qoxag. All Right Reserved.